کورونا کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ خطرناک ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

 
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ خطرناک ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر جاری ہے جو کہ پہلی دونوں لہروں سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے یہ بھی کہا کہ مُلک میں اس وقت آکسیجن کی کل پیداوار کا 75 فیصد سے زائد صحت کے شعبے کیلئے مختص ہے لیکن اگر کورونا کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو انڈسٹری کے لیے مختص آکسیجن بھی صحت کے شعبے کے لیے دی جاسکتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک کے 51 شہروں میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہے، خیبر پختونخوا میں پشاور، نوشہرہ، چار سدہ، صوابی میں کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، بہاولپور میں کیسز زیادہ ہیں اور سندھ میں کراچی، حیدر آباد میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد زیادہ ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے 90 ہزار کیسز موجود ہیں جبکہ570 افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں، 4300 کی حالت نازک ہے، کچھ اسپتالوں میں 90 فیصد سے زائد وینٹی لیٹرز بھرے ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان آرمی اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت اور حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام اُٹھائے گی۔

میجر جنرل بابر افتخار کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحیثیٹ قوم پہلے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ گھروں، مساجد اور تمام مقامات پر حفاظتی تدابیر پر عمل کرکے ہم ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی میٹنگز ہفتے میں ایک دن ہوں گی، ہم سب کو مل کر اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا، کورونا ایس او پیز پر عمل کرکے ہی ہم اس وبا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

تبصرے