سید امتیاز علی تاج کا شمار اردو کے صف اول کے ادیبوں میں ہوتا ہے اور ان کا ڈرامہ انار کلی اردو کے کلاسکس میں گنا جاتا ہے۔ امتیاز علی تاج 13 اکتوبر 1900 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ دور طالب علمی ہی میں انہوں نے انگریزی کے کئی معرکہ آرا ڈراموں کو اردو میں منتقل کیا اور انہیں اسٹیج کیا۔ 1925 میں ان کا معرکہ آرا ڈرامہ انار کلی اشاعت پذیر ہواجو شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ اختیار کرگیا۔ امتیاز علی تاج نے ایک بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ انہوں نے فن ڈرامہ نگاری پر تنقیدی مضامین لکھے لاتعداد ڈرامے اردو میں منتقل کیے اردو کے کلاسیکی ڈراموں کے متون کو مرتب اور شائع کیا کئی فلموں کی کہانیاں لکھیں اور پاکستان آرٹس کونسل لاہور کے سیکرٹری اور مجلس ترقی ادب لاہور کے ناظم رہے۔ 18اور 19 اپریل 1970 کی درمیانی رات دو نامعلوم نقاب پوش حملہ آوروں نے جو سید امتیاز علی تاج کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہوئے تھے چاقوئوں کے پے در پے وار کرکے انہیں شدید زخمی کردیا جو ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے دن خالق حقیقی سے جاملے۔حکومت پاکستان نے ان کی اعلی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں