آج کے دن پاکستان کے معروف فلمی شاعر مسرور انور کو دنیا سے گزرے 25 برس بیت گئے ۔ مسرور انور کا اصل نام انور علی تھا اور وہ 6 جنوری 1944 کو شملہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی۔شاعری کا شوق انہیں ریڈیو پاکستان لے آیا جہاں انہوں نے بطور اسٹاف آرٹسٹ خدمات انجام دینا شروع کیں۔ ریڈیو پاکستان پر اداکار ابراہیم نفیس کے توسط سے ان کی ملاقات فلم ساز اور ہدایت کار اقبال شہزاد سے ہوئی جنہوں نے انہیں فلم بنجارن کے نغمے لکھنے کی پیشکش کی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مسرور انور نے فلم شرارت اور بدنام کے گیت لکھے ان فلموں کے گیت بہت مقبول ہوئے اور پھر وحید مراد، پرویز ملک اور سہیل رعنا کی ٹیم کا حصہ بن گئے جن کے ساتھ انہیں ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان اور دوراہا کے نغمات لکھنے کا موقع ملا، بعدازاں وہ لاہور منتقل ہوگئے،
لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے نثار بزمی کی موسیقی میں بے شمار فلموں کے لئے لازوال گیت تخلیق کئے۔ ان کی ان فلموں میں لاکھوں میں ایک، ناگ منی، پہچان، صاعقہ، عندلیب، آگ، انجمن، شمع اور پروانہ، انیلا، انمول اور آسرا کے نام جیسے مشہور فلمز سرفہرست ہیں۔ انہوں نے کئی فلموں کی کہانیاں تحریر کیں اور چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔ ان کی ایسی ہی ایک فلم سوغات پاکستان کی شاہکار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلموں کے نغموں کے علاوہ مسرور انور نے قومی نغمے بھی لکھے ہیں۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے ، اپنی جان نذر کروں، جگ جگ جیے مرا پیارا وطن اور ہم سب ہیں لہریںکنارا پاکستان ان کے ایسے ہی یادگار قومی نغمات میں شامل ہیں۔ویسے تو سارے قومی نغمے مقبول ہوئے پر نئرہ نور کی آواز میں گایا ہوا قومی نغمہ وطن کی مٹی گواہ رہنا بہت مقبول ہوا۔ مسرور انور نے7 نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ یکم اپریل 1996کو مسرور انور لاہور میں وفات پاگئے ۔حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا۔ وہ کریم پارک، علامہ اقبال ٹائون کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں