خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا "الله تعالیٰ اس رات کو پکارتا ہے کہ کوئی ہے جو معافی مانگ رہا ہو تا کہ میں اسے معاف کر دوں، کوئی ہے جو تکلیف میں ہو اور میں اسکی تکلیف دور کر دوں، کوئی ہے جسے رزق کی ضرورت ہو اور میں اسے رزق عطا کروں اور یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ہے" (ابن ماجہ)
ایک اور حدیث مبارکہ میں پیغمبر اسلام، شافعی محشر، سرکار دو عالم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ "میں 15 شعبان کی رات سو رہا تھا کہ جبرئیل میرے پاس آۓ اور کہا یا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس رات کو کیوں سو رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا او جبرئیل یہ کیا رات ہے؟ جبرئیل امین نے جواب دیا یہ 15 شعبان کی رات ہے، اٹھو اے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم، اس نے مجھے اٹھایا اور جنّت البعقی کے قبرستان میں لے گیا اور کہا، اپنے سر کو اٹھاؤ، آج کی رات وہ رات ہے جب جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، رحمت کے دروازے. یہ ہے در رضوان، الله کی خوشنودی کا دروازہ، یہ ہےدر مغفرہ، الله کی مغفرت کا دروازہ، یہ ہے در فضل، الله کے فضل کا دروازہ، یہ ہےدر توبہ، الله کی توبہ کی قبولیت کا دروازہ، یہ ہے در نعمت، الله کی نعمت کا دروازہ، یہ ہے جوز، الله کی صداقت کا دروازہ اور یہ ہے در احسان، الله کی مہربانی کا دروازہ. اس رات کو الله تعالیٰ گاۓ اور بھیڑوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو جہنّم کی آگ سے آزاد کرتا ہے. یہی وہ رات ہے جب لوگوں کی موت کا وقت لکھ دیا جاتا ہے اور ایک سال کے لئے اس کا رزق تقسیم کر دیا جاتا ہے اور جو کچھ اس شخص کے ساتھ اس سال کے دوان ہوگا وہ مقرّر کر دیا جاتا ہے. اے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی یہ رات الله و اکبر، سبحان الله اور لا الہٰ الاللہ پڑھتا ہے اور دعا اور صلات اور قرآن کی تلاوت اور دیگر اعمال میں مصروف رہتا ہے اور ساری رات الله سے معافی کا طلبگار رہتا ہے، جنّت ہی اسکی آخری آرام گاہ ہوگی اور اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے. لہٰذا اس رات کو نماز اور عبادت میں بیدار رہو اور اپنی امّت کو بھی جاگتے رہنے کی ترغیب دو تا کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعہ الله تعالیٰ کے قریب ہو جائیں کیوں کہ یہ ایک عمدہ رات ہے"
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات مندرجہ ذیل دعا تلاوت فرماتے تھے " اے الله ہمیں اپنے خوف کا ایک حصّہ عطا فرما جو تیرے اور ہماری نافرمانیوں کے درمیان ایک رکاوٹ بن جائے. تیری فرمابرداری جو تیری خوشنودی حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور ہم پہ یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ دنیا کی پریشانیوں کی کوئی حیثیت نہیں. اے الله جب تک آپ ہمیں زندہ رکھیں، ہمیں اپنی سماعت، اپنی نظر اور اپنی طاقت سے لطف اٹھانے دیں. ہمیں ان لوگوں کے خلاف اٹھایں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف ہماری مدد کریں جو ہم سے دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ہمارے مصایب کو ھمارے دین کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں اور نہ ہے اس فانی دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکرمندی بننے دیں اور نہ ہم پر کسی ایسے شخص کو مقرر کریں جو ہم پر رحم نہ کرے. اے الله ہمیں اپنی رحمت سے نواز دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے"




تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں