شہد قدرت کا عظیم تحفہ۔

 

زمانہ قدیم سے شہد کا استعمال بطور غذا اور دوا دونوں طرح سے مقبول ہے۔ یہی نہیں، شہد کا شمار سرفہرست فائدہ مند نباتاتی مرکبات میں بھی کیا جاتا ہے کیونکہ شہد انسانی جسم کو بےشمار فوائد باہم پہنچانے کا باعث ہے۔ 

غذائیت کے اعتبار سے ایک چمچ شہد میں64فیصد کیلوریز اور17گرام شوگر پائی جاتی ہے۔ اس میں فرکٹوز، گلوکوز اور مالٹوز جیسے غذائی اجزاء بھی شامل ہیں۔ شہد میں عملی طور پر پروٹین اور فائبر نہیں پایا جاتا۔ اس کے علاوہ وٹامنز اور منرلز کی تعداد کم جبکہ پلانٹ کمپاؤنڈ کی تعداد زیادہ تناسب میں پائی جاتی ہے۔

اعلیٰ معیارکا شہد اینٹی آکسیڈینٹس کی کثیر مقدار پر مشتمل ہوتا ہے مثلاً آرگینک ایسڈ اور فیونولک مرکبات (فلیونائڈ ) وغیرہ۔ سائنس دان تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مرکبات ہی شہد کواینٹی آکسیڈنٹ پاور بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دو مطالعات سے ثابت ہے کہ buckwheat honey کا استعمال خون میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس انسان کو ہارٹ اٹیک، اسٹروک اورکینسر کی مختلف اقسام سے محفوظ رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔ شہد میں موجود یہ خصوصیات جِلد کو شفاف اور بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ شہد کا استعمال ذیابطیس میں مبتلا مریضوں میں قلبی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتاہے۔ ایک طرف یہ برے کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈ اور سوزش کو کم کرتا ہے تو دوسری جانب اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ ۔

بلڈپریشر کی بڑھی ہوئی سطح انسان میں قلبی بیماریوں کے امکانات کا خطرہ بڑھا دیتی ہے جبکہ شہد کا استعمال اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی اہم وجہ شہد میں شامل اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جنہیں بلڈ پریشر کی بڑھی ہوئی سطح کم کرنے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ی

تبصرے