پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھیٹر کا عالمی دن آج 27مارچ کو منایا جاتا ہے ۔ورلڈ تھیٹر ڈے منانے کا مقصدڈراموں اور میوزک کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے خیالات ونظریات کا تبادلہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ثقافتی تنظیموں اور فنی زندگی سے وابستہ افراد مختلف تقریبات کا اہتمام کریں گے اور اس بات کا عزم کیا جائے گاکہ ملک میں غیر اخلاقی تھیٹرکے خاتمے اور اصلاحی ڈراموں کے فروغ کیلئے جدوجہد کی جائے گی۔تھیٹر کا مطلب عرف عام میں کسی کہانی کوناظرین کے سامنے ڈرامے کے انداز میں پیش کرنا ہے۔
سنہ 1855 میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ نے آغا حسن امانت کا تحریر کردہ ڈرامہ اندر سبھا اسٹیج کیا۔ یہ ایک پری جمال اور شہزادہ گلفام کی کہانی پر مبنی منظوم ڈرامہ تھا۔
بعد ازاں اس تھیٹر نے پارسی تھیٹر کی صورت اختیار کی جو تقریبا ایک صدی تک برصغیر پر راج کرتا رہا۔ پارسی تھیٹر میں داستانوں اور سماجی کہانیوں کا امتزاج پیش کیا گیا۔ برطانوی راج کے دور میں تھیٹر داستانوں اور تصوراتی کہانیوں سے نکل کر عام حقائق اور غریبوں کے مصائب کو پیش کرنے لگا۔
پارسی تھیٹر کے دور کا ایک مشہور و معروف نام آغا حشر کاشمیری ہیں۔ انہیں اردو زبان کا شیکسپئیر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے منظوم ڈرامے لکھے جن میں سے بیشتر فارسی، انگریزی ادب اور ہندو دیو مالا سے متاثر تھے۔
یسویں صدی کے وسط میں تھیٹر میں امتیاز علی تاج، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، رفیع پیر اور اپندرناتھ اشک کے ڈرامے پیش کیے جانے لگے۔ سنہ 1932 میں امتیاز علی تاج کا تحریر کردہ ڈرامہ انار کلی اردو ڈرامے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ دور میں پاکستان میں ہونے والا تھیٹر اپنے منفرد موضوعات، ہدایت کاری، لائٹنگ، اور پیشکش کے حوالے سے باشعور شائقین کے لیے کشش رکھتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں