یومِ ولادت با سعادت سُلطان وفا حضرت عباس علمدار بن علی کرم اللہ وجہہ۔


چار 4 شعبان یومِ ولادت حضرت عباس علیہ السلام بن علی بن ابی طالب ہے۔ آپ کے والد محترم داماد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور والدہ فاطمہ بنت حزام ہیں جو عرب میں ام البنین کے لقب سے مشہور تھیں۔ حضرت عباس نہایت حسین و جمیل تھے اور لوگوں میں قمر بنی ہاشم کے لقب سے مشہور تھے۔

عباس بن علی کرم اللہ وجہہ کو علمدار بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ اسلام میں اپنے بھائی حسین بن علی کے لیے وفادار رہنے، آل فاطمہ کا احترام کرنے اور جنگ کربلاء میں اپنے کردار کی وجہ سے ممتاز شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کی جنگ کربلاء کے دوران میں یوم عاشوراء کو شہادت ہوئی۔ عباس کا مدفن کربلاء، عراق میں العتبہ العباسیہ میں ہے۔ عباس عرب میں بہادری و شجاعت کے لیے بھی مشہور تھے۔ ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں کہ عباس وہ شیر تھے جس سے دوسرے شیر ڈرتے تھے۔

آج عباس علمدار کا مزار کربلا میں وفا کا مرکز بن کر ایستادہ ہے جنہیں عشق رسالت ؐ کا یہ اجر ملا کہ آپ کے مزار پر کی جانے والی کوئی دعا رد نہیں ہوتی عباس علمدار باب الحوائج کہلاتے ہیں ۔یہ مقام ،احترام ان کی ماں حضرت فاطمہ بنت حزام زوجہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی تربیت کا فیض ہے جنہوں نے اپنے 4فرزند نبی ؐؐاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پیارے نواسے امام حسین ؑ کی محبت میں میدان کربلا کی قربان گاہ میں پیش کئے۔ 

تبصرے