پپیتے کے حیرت انگیز طبّی فوائد۔

 قدرت نے انسان کے لئے پھلوں و سبزیوں کی شکل میں منفرد خوش ذائقہ غذائیں پیدا کی ہیں۔ ہر پھل و سبزی کا اپنا منفرد ذائقہ ہے۔ انہی پھلوں و سبزیوں میں ایک ذائقہ دار پھل پپیتا بھی ہے۔ پپیتا بطور غذا کھانے سے معدے اور آنتوں پر بہت مفید اثرات ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پپیتا استعمال کرنے سے معدہ اور آنتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ پپیتا معدے کے سیال کی کمی، مضر سیال کی زیادتی، بد ہضمی اور آنتوں کی سوزش کو دور کرتا ہے۔

پپیتے کے بیجوں کا رس تیزابیت اور خونی بواسیر میں مفید ہے۔ پپیتا کئی فوائد کا حامل پھل ہے۔اس میں وافر مقدار میں وٹامن بی، فولیٹ، پینٹو تھینک ایسڈ، معدنیات، کیلشیم، پوٹاشیم لائکوپین، میگنیشیم اور فائبر موجود ہیں.

پپیتا زود ہضم پھل ہے۔اس کا گودا نرم ہونے کی بنا پر با آسانی ہضم بھی ہو جاتا ہے۔کھانے کے بعد پپیتا کھانے سے غذا اچھی طرح ہضم ہوتی ہے اور معدے میں تیزابیت اور بد ہضمی بھی نہیں ہوتی اور قبض بھی دور ہو جاتا ہے۔

پپیتا دو اہم خامروں پیپائن اور کیمو پیپائن سے لبریز ہوتا ہے۔پروٹین معدے میں آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔ یہ خامرے غذا کو ہضم کرنے میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ معدے میں پروٹین کو بھی اچھی طرح ہضم کرتے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق امینو ایسڈز، جسم میں مختلف کیمیائی عمل کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں اور ذہنی و جسمانی صحت میں بہت مفید ہیں۔

کولون،جگر اور تمام جسمانی اعضاء و گلینڈز کے سرطان کے خلاف پپیتے کا استعمال بہت مفید ہے۔ پپیتے میں موجود فائبر،کینسر کی وجہ بننے والے زہریلے مادوں کو صحت مند خلیوں میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔

پپیتے میں شامل دیگر اجزاء فولیٹ،وٹامن سی،بیٹا کیروٹین اور وٹامن ای مل کر کولون کینسر کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔پپیتے کا جوس کولون کا انفیکشن کم کرنے کے ساتھ جگر میں سرطان کے خلیوں کی افزائش بھی کنٹرول کرتا ہے۔ کینسر کی تھراپی کے بعد بھی پپیتا کھانا فائدہ مند بتایا جاتا ہے۔اس کا خامرہ پیپائن، تھراپی کے منفی اثرات زائل کرنے میں مفید ہے۔

پپیتے میں شامل غذائی اجزاء دل کی شریانوں میں خون کی گردش کو بہتر بنا کر نظام قلب میں مضبوطی کا باعث بنتے ہیں۔

پپیتے میں مانع تکسیدی جز کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول رکھ کر فالج ،ذیابیطس،دل کا دورہ و دیگر امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرہ کو کم کرتی ہے۔

اینٹی بائیوٹک ادویہ جسم پر منفی اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ کئی ادویہ آنتوں میں موجود جسم کے لئے مفید جراثیم بھی ختم کر دیتی ہیں۔

اینٹی بائیوٹک دوائیں کھانے کے دوران یا بعد میں پپیتے کو کاٹ کر یا اس کا جوس بنا کر پینا نہایت مفید ہے۔ پپیتا ان ادویہ کے منفی اثرات کو نہ صرف زائل کرتا ہے بلکہ آنتوں میں فائدہ مند جراثیم کی دوبارہ نمو بھی کرتا ہے۔

پپیتا جہاں بطور غذا صحت بخش ہے وہیں اس کا جلد پر استعمال بھی مفید ہے۔جلد کے کئی زخموں و نشانات وغیرہ پر پپیتے کا میش کیا ہوا گودے کا لیپ کرنا فائدہ مند ہے۔

جیسے جلد پر جلنے کا زخم،چاقو یا چھری سے لگ جانے والا کٹ یا گھاؤ، زہریلے جانور کے ڈنک یا کاٹے کے زخم وغیرہ پر فوری طور پر پپیتے کا لیپ کرنے سے انفیکشن نہیں پھیلتا اور زخم پر ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ چہرے پر پڑ جانے والی جھریوں اور داغ دھبوں پر بھی پپیتے کے لیپ کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے۔

تبصرے